کیا اس نے قتلِ جہاں اک نظر میں
کسی نے نہ دیکھا تماشا کسی کا

ستم گری کے حوالے سے اتنا سادہ اور بھرپور شعر، مومن کے دیوان میں تو کیا، کلاسیکی اردو شاعری کے ضخیم و باثروت ذخیرے میں بھی کم ہی ملے گا۔ ظاہر ہے یہ موضوع اور اس کے کنائے بہت پامال ہیں۔ ایسے مضمون میں سے معنی کا نیا پہلو نکال لینا طبیعت کی ندرت کا تقاضا کرتا ہے۔ پہلا مصرع بہت سامنے کا اور روایتی ہے لیکن دوسرے مصرعے نے کہانی کی نہج کو بدل ڈالا ہے۔ دل چسپ نکتہ یہ ہے، دوسرے مصرعے کے باعث قتلِ جہاں کی تیزی اور سرعت، مبالغے کی بجائے قرین قیاس بل کہ سائینسی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ شاید آج سے دو دہائی پہلے کے لوگوں کے لیے، اس شعر کے بصری تلازمے (Visual Associations) سمجھنا سہل نہ تھے۔ لیکن آج جس نوع کی سائنسی بحثیں، روزمرہ سائنس فکشن ؛ ادب اور فلموں کی شکل میں ہمارے سامنے رہتی ہیں، انھوں نے صورت حال کو قریب کا مال بنا دیا ہے۔ مثال کے طور پر، دو جانی مانی سائنسی مواد کی فلمیں ذہن میں لائیے : Lucy اور Interstellar۔ دونوں فلموں میں دیگر کئی تصورات کے ساتھ، وقت کی تخفیف و تمدید (Reduction and Extension) کا تصور اہم، بل کہ کسی حد تک مرکزی ہے۔ کئی دنوں کے واقعات لمحوں میں، اور کئی دقیقوں کی قصے ہفتوں میں پھیل یا سکڑ جاتے ہیں۔ چوں کہ ان مظاہر کو، جدید سائنس کی پشت پناہی بھی حاصل ہے، لہٰذا، ان پر اعتراض تو کجا، انھیں احسن سمجھا جاتا ہے۔ آئین سٹائن کا معروف قول ہے :
Time is not a fixed, universal constant, but a flexible dimension that can stretch or shrink.
روزمرہ زندگی میں سیٹیلائٹس کا گلوبل پوزیشننگ سسٹم (GPS)اس کی عمدہ مثال ہے۔
صوفیاء کی اصطلاح میں اسے قبضِ زماں یا بسطِ زماں کہتے ہیں۔ (سید رفیق حسین کا افسانہ، فسانہ ء اکبر اور شمس الرحمٰن فاروقی کا ناولٹ، قبض زماں، ذہن میں رکھیے۔)

مجھے یاد ہے، آج سے پندرہ بیس برس پہلے، ایک شاعر (افسوس، نام بھول رہا ہوں) نے، جو یو ای ٹی، کے جواں سال طالب علم تھے، حلقہ ارباب ذوق میں ایک شعر پڑھا، جس پر بڑی لے دے ہوئی :
خود میں گم ہوں کہ اب مرے اطراف
شور اتنا ہے کہ تماشا نہیں
عجز کلام، اپنی جگہ، لیکن اصل میں شاعر نے اسی مضمون کے خوان سے لقمہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ میں ایسے شعروں یا ٹھیٹھ سائنسی موضوعات کی وکالت نہیں کر رہا۔ مقصود یہ ہے کہ بعض اوقات مسلمات کے شعروں کو (جس میں مومن کا زیرِ بحث شعر بھی شامل ہے) روزمرہ کی سائنسی و مصدقہ حقیقتوں سے جوڑ کر دل چسپ اور معنی خیز نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہ امر، کلاسیکی شعروں کو دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنے اور ان کے نظری و عملی جواز فراہم کرنے کے حوالے سے خاص طور پر اہم ہے۔
یہ تو ہوئی مومن کے شعر کی سائنسی یا صورت حال سے قریب کی تعبیر۔ مزید تعمق کیجیے، تو اس کے تانے بانے، اسلامی مفاہیم سے بھی جا ملتے ہیں۔ قیامت کے حوالے سے قرآن اور احادیث میں کثرت سے ایسے مرقعے ملتے ہیں کہ یوم حشر کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا یارا نہ ہو گا۔ قرآن کی دو مختلف سورتوں کی آیتیں ملاحظہ کیجیے:
وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا
کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کا حال تک نہ پوچھے گا۔
سورہ المعارج، آیت 10
يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ
(جس دن انسان بھاگے گا اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ اس دن ان میں سے ہر شخص کا ایسا حال ہوگا جو اسے سب سے بے نیاز کر دے گا۔)
سورہ عبس آیات 34 تا 37
حدیث میں بھی اس سے ملتی جلتی صورت حال بیان کی گئی ہے، قیامت کے روز لوگ برہنہ پا، برہنہ سر اٹھائے جائیں گے لیکن وحشت کے مارے کوئی کسی کو نہ دیکھے گا۔ قیامت کی گھڑی میں وقت کے پھیلاؤ اور گھٹاؤ کی بڑی اہمیت ہے، یعنی ہر آدمی اپنے اپنے وقت کے مطابق جیے گا۔ اس ساری صورت حال کو ذہن میں رکھ کر مومن کا شعر کیسا معنی خیز اور کسی قدر وحشت انگیز معلوم ہوتا ہے۔
ہمارے دور میں سلیم کوثر نے اس سے ملتا جلتا اور کسی قدر تنبیہی شعر نکالا ہے:
محوِ نظّارہ کوئی یوں بھی نہ تنہا رہ جائے
دیکھنے والے چلے جائیں، تماشا رہ جائے
مومن کے شعر میں نظر، دیکھا اور تماشا میں رعایت واضح ہے۔
شعر کی ایک دوسری قرات یوں بھی ہو سکتی ہے کہ محبوب، یا ستم کار نے قتلِ جہاں کو عملی یا زمینی طور پر انجام دینے کی بجائے، نظر نظر میں پایہ ء تکمیل تک پہنچا دیا۔ ظاہر ہے کہ اگر ساری کاروائی نظر میں ہوئی تو کوئی شہادت یا شاہد و مشہود کا وجود کیوں کر ثابت کیا جا سکتا ہے۔ شاید یہی محبوب کا مقصود بھی ہو، صائب نے پہلو بدل کر کیا عمدہ مضمون نکالا ہے :
مباد از قتل من شرمنده باشی
تو می باید کہ دایم زنده باشی

مومن غالب کے معاصر اور دوست تھے، دونوں کے مضامین گاہے گاہے مشترک ہوتے ہیں، البتہ اسلوب میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ غالب کے معروف اور حفظ شدہ شعر کا اثر واضح ہے :
اس سادگی پہ کوں نہ مر جائے اے خُدا!
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

